ہے یہ مسافر دور سے آیا عجز کا ہے نذرانہ لایا
ہے یہ مسافر دور سے آیا عجز کا ہے نذرانہ لایا
حاضر ہے بادیدۂ پر نم، صلی اللہ علیہ وسلم
کوئی نہیں ہے آپ کا ثانی درد بھری ہے میری کہانی
زخم ہیں دل کے طالبِ مرہم، صلی اللہ علیہ وسلم
پھر اک بار مدینے جاؤں، پیش نظر ہو جس کو چاہوں
اس قربت کو عمر بھی ہے کم، صلی اللہ علیہ وسلم
دشتِ طلب کا ایک پیاسا، آیا لے کر خالی کاسہ
لطف وکرم اے بحرِ معظم، صلی اللہ علیہ وسلم
درد و الم کے بادل آئے، میرے چاروں جانب چھائے
يا نبی اللہ! ارحم ارحم، صلی اللہ علیہ وسلم
در پہ کھڑا ہے بدرؔ سوالی، بھر دیں اس کی جھولی خالی
حسنِ توجہ چاہیے پیہم، صلی اللہ علیہ وسلم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.