رواں ہوں جانبِ طیبہ بہ دل ترسیده ترسیده
رواں ہوں جانبِ طیبہ بہ دل ترسیده ترسیده
خمیده سر بہ چشمِ تر قدم لرزیده لرزیده
بہ لطفِ خالقِ ہستی، مدینہ نور کی بستی
مکاں اس کے مکیں اس کے ہیں سب تابندہ تابندہ
سعادت کی وہ رات آئی، نویدِ جاں فزا لائی
ہوا داخل مدینہ پاک میں، گل چیده گل چیدہ
کھڑا ہے بے نوا کوئی درِ رحم و شفاعت پر
کہاں تابِ نظر اس کو مگر دزدیده دزدیده
مدینے کے در و دیوار جب سے دیکھ آیا ہوں
عجب صورت ہے میری روح ہے رقصیده رقصیده
شفاعت آپ کی ہو گر مری بھی مغفرت ہو گی
میں نادم ہوں کہ گزری زندگی لغزیدہ لغزیده
ہوں غرقِ بحرِ آلام و مصائب یا رسول اللہ
کرم فرمائیں مجھ پر ہے جگر کلویده کلویده
نسیمِ جاں فزا جا کر یہ کرنا عرض حضرت سے
ہے خادم آپ کا نالہ بہ لب رنجیدہ رنجیده
فراقِ ہجر کی شدت میں از بس بیقراری ہے
رہے کب تک طپسیده! یہ دل کلہیده کلہیده
تمنا ہے مری آقا! کہ بڑھ کر چوم لوں جالی
میں جا پہنچوں مدینہ میں مگر طلبیده طلبیده
سرِ فاراں جو چمکا تھا کبھی مہرِ ہدیٰ بن کر
اسی کی روشنی سے ہے جہاں رخشندہ رخشندہ
عطا ہو مجھ کو بوصیری کی صورت چادرِ رحمت
ریاض الجنہ میں پھر روح ہو رقصیده رقصیده
طلوعِ بدرؔ پر گائے تھے نغمے خوش نواؤں نے
انہی کی لے سے روحِ بدر ہے رقصیده رقصیده
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.