Font by Mehr Nastaliq Web

محمد سر قدرت ہے کوئی رمز اس کی کیا جانے

سعید لکھنوی

محمد سر قدرت ہے کوئی رمز اس کی کیا جانے

سعید لکھنوی

MORE BYسعید لکھنوی

    محمد سر قدرت ہے کوئی رمز اس کی کیا جانے

    شریعت میں تو بندہ ہے حقیقت میں خدا جانے

    خدا و مصطفیٰ کی کنہ میں ادراک عاجز ہے

    محمد کو خدا جانے خدا کو مصطفیٰ جانے

    خدا نے صورت احمد میں جلوہ اپنا دکھلایا

    بھلا پھر کس طرح سے کوئی ان کا مرتبہ جانے

    ہوالاول ہوالآخر ہوالظاہر ہوالباطن

    اسی کو ابتدا جانے اسی کو انتہا جانے

    وہی ہے ایک دریا اور دوعالم اس کی موجیں ہیں

    غریق بحرِ عرفاں ہو تو پھر یہ ماجرا جانے

    محمد فی الحقیقت آفتابِ لایزالی ہے

    اسی کے نور کا دونوں جہاں میں پرتوا جانے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے