Font by Mehr Nastaliq Web

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا

صائم چشتی

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا

صائم چشتی

MORE BYصائم چشتی

    تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا

    میری قسمت جگانا تیرا کام تھا

    میری آنکھوں کو ہے دید کی آرزو

    رخ سے پردہ اٹھانا تیرا کام تھا

    تیری چوکھٹ کہاں اور کہاں یہ جبیں

    تیرے فیضِ کرم کی تو حد ہی نہیں

    جس کو دنیا میں نہ کوئی اپنا کہے

    اس کو اپنا بنانا تیرا کام ہے

    باڑا بٹتا ہے سلطانِ کونین کا

    صدقہ مولیٰ علی صدقہ حسنین کا

    صدقہ خواجہ پیا غوث الثقلین کا

    حاضری ہوگئی یہ بھی انعام ہے

    میرے دل میں تیری یاد کا راج ہے

    ذہن تیرے تصور کا محتاج ہے

    اک نگاہِ کرم ہی میری لاج ہے

    لاج میری نبھانا تیرا کام ہے

    پیش ہر آرزو ہر تمنا کروں

    تھام لو جالیاں التجائیں کرو

    مانگنے والو دامن کشادہ کرو

    کملی والے کا فیضِ کرم عام ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے