Font by Mehr Nastaliq Web

کملی والے میں قرباں تری شان پر

صائم چشتی

کملی والے میں قرباں تری شان پر

صائم چشتی

MORE BYصائم چشتی

    کملی والے میں قرباں تری شان پر

    ٹھوکریں کھا کے گرنا مرا کام تھا

    ساقیا جان قرباں ترے جام پر

    چھوڑ دی میں نے کشتی ترے نام پر

    ظلم جانوں پہ جب بے بہا کر لیے

    تیرے مجرم ترے در پہ حاضر ہوئے

    پوری سرکار سب کی تمنا کرو

    دور طیبہ سے روتے تڑپے ہیں جو

    فیض جاری ترا تا قیامت رہے

    تیری محبوب چوکھٹ سلامت رہے

    تو نے قطروں کو دیکھا گہر کر دیا

    تو نے حبشی کو رشکِ قمر کر دیا

    کس سے جا کر شہا دل کی حالت کہے

    تیری نعتیں سنانا مرا کام ہے

    سب کی بگڑی بنانا ترا کام ہے

    ہر قدم پر اٹھانا ترا کام ہے

    ہو نگاہِ کرم اپنے خدام پر

    اب کنارے لگانا ترا کام ہے

    جرم و عصیاں شہا حد سے جب بڑھ گئے

    اب انہیں بخشوانا ترا کام ہے

    ہر بھکاری کی داتا جی جھولی بھرو

    ان کو در پر بلانا ترا کام ہے

    تیری نبیوں پہ قائم امامت رہے

    کنزِ رحمت لٹانا ترا کام ہے

    تو نے ذروں کو دیکھا تو زر کر دیا

    الٹا سورج پھرانا ترا کام ہے

    کس سے جا کر یہ فریاد صائمؔ کرے

    میرے غم کو مٹانا ترا کام ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے