Font by Mehr Nastaliq Web

یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی

صائم چشتی

یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی

صائم چشتی

MORE BYصائم چشتی

    یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی

    آیتوں سے ملاتا رہا آیتیں پھر جو دیکھا تو نعتِ نبی بن گئی

    کون ہے جو طلب گار جنت نہیں یہ بھی تسلیم جنت ہے باغِ حسین

    حسنِ جنت کو جب سمیٹا گیا مصطفیٰ کے نگر کی گلی بن گئی

    جب کیا تذکرہ حسن سرکار کا والضحیٰ پڑھ لیا والقمر کہہ دیا

    آیتوں کی تلاوت بھی ہوتی رہی نعت بھی بن گئی بات بھی بن گئی

    جب بھی آنسوں گرے مرے سرکار کے سب کے سب ابرِ رحمت کے چھینٹے بنے

    ہوگئی رات جب زلف لہرا گئی جب تبسم کیا چاندنی ہوگئی

    سب سے صائمؔ زمانے میں مجبور تھا سب سے بے کس تھا بے بس تھا مجبور تھا

    میری حالت پہ ان کو رحم آ گیا میری عظمت میری بے بسی بن گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے