اے مرے خدا مرے مہرباں مجھے ایسا وصفِ کمال دے
اے مرے خدا مرے مہرباں مجھے ایسا وصفِ کمال دے
ترا نام ورد زباں رہے مجھے ایسے سانچے میں ڈھال دے
کروں ہر گھڑی میں تری ثنا مری سانس میں ترا شکر ہو
ترا قرب ہو تری ذات ہو کوئی ایسا لمحہ وصال دے
ترا سنگ ہو یہ امنگ ہو تری بارگہ میں پڑی رہوں
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے مری بے بسی کو زوال دے
رہے قلب میں تری روشنی ترے ذکر کی رہے چاندنی
بسے آنکھ میں جو تری چمک مجھے اپنا جلوہ جمال دے
میں کروں بیاں تری عظمتیں تری رفعتیں تری جلوتیں
میں جو سوچوں تیرے سوا کبھی مرے اس خیال کو ٹال دے
ملے عشق تیرے حبیب کا مرا جینا مرنا اسی میں ہو
کروں تیرے نام پہ جاں فدا مجھے بھیکِ عشقِ بلال دے
میں فقیر تیرے ہی در کی ہوں، نہیں کوئی میرا ترے سوا
ترے پاس کوئی کمی نہیں مری خالی جھولی میں ڈال دے
رہے خیر پر مرا خاتمہ ہے یہ قلبِ نازؔ کی التجا
میں لحد میں تیری ثنا کروں مجھے ایسا بخت کمال دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.