Font by Mehr Nastaliq Web

گھر میں میلاد منانے میں مزہ آتا ہے

صفیہ ناز صابری

گھر میں میلاد منانے میں مزہ آتا ہے

صفیہ ناز صابری

MORE BYصفیہ ناز صابری

    گھر میں میلاد منانے میں مزہ آتا ہے

    اپنا گھر بار سجانے میں مزہ آتا ہے

    آپ کے روضۂ انور کے حسیں منظر کو

    اپنی آنکھوں میں بسانے میں مزہ آتا ہے

    آپ کے ذکر سے ہوتا ہے اجالا دل میں

    یاد کے دیپ جلانے میں مزہ آتا ہے

    آپ کی سیرت و کردار سے پائی ہے ضیا

    شکر میں پیار نبھانے میں مزہ آتا ہے

    لب ہیں خاموش مگر اشک بہے جاتے ہیں

    حالِ دل یوں بھی سنانے میں مزا آتاہے

    شاہِ بطحیٰ کی محبت کو بسا کر دل میں

    اپنی دنیا کو سجانے میں مزہ آتا ہے

    نازؔ سرکارِ دوعالم کی اطاعت کر کے

    خود کو عصیاں سے بچانے میں مزہ آتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے