کر رہی ہوں آپ کی مدحت سرائی یا نبی
کر رہی ہوں آپ کی مدحت سرائی یا نبی
ہو گئی ہے چار سو اب روشنائی یا نبی
نوری نوری ہے سماں اور مہکی مہکی ہے فضا
آج گھر میں نعت کی محفل سجائی یا نبی
ہے تمنا ایک شب ہو جائے زیارت آپ کی
دل میں ہیں امید کی شمعیں جلائی یا نبی
ہے مقدر اوج پر وارے نیارے ہوگئے
مل گئی ہے آپ کے در کی گدائی یانبی
گنبدِ خضریٰ کے جلوے ہیں نظر کے سامنے
سبز رنگت میرے من میں ہے سمائی یا نبی
اک یہی ہے آرزو طیبہ ہو مسکن نازؔ کا
اب سہی جاتی نہیں مجھ سے جدائی یا نبی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.