Font by Mehr Nastaliq Web

سن کے اقرا کی صدا ساری فضا کیف میں ہے

صفیہ ناز صابری

سن کے اقرا کی صدا ساری فضا کیف میں ہے

صفیہ ناز صابری

MORE BYصفیہ ناز صابری

    سن کے اقرا کی صدا ساری فضا کیف میں ہے

    چھو کے نعلینِ کرم غارِ حرا کیف میں ہے

    آپ کے فیض سے ہے آج ملا رزقِ سخن

    خامہ ہے جھوم اٹھا حرفِ ثنا کیف میں ہے

    خواب میں آپ کی ہو جائے زیارت مجھ کو

    دلِ بے تاب کی یہ خاص دعا کیف میں ہے

    روز و شب کرتی ہے جو گنبدِ خضریٰ کا طواف

    مہکی مہکی یہ مدینے کی ہوا کیف میں ہے

    گزرے سرکار جہاں سے وہ حسیں راہ گزر

    چوم کر آپ کے نقشِ کفِ پا کیف میں ہے

    ہاتھ اٹھتے نہیں بھر جاتے ہیں خالی دامن

    آپ کے کوچے کا ہر ایک گدا کیف میں ہے

    روشنی دیتا رہا آپ کی مدحت کی مجھے

    نازؔ نے دل میں جلایا جو دیا کیف میں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے