ہو جائے اگر مجھ پہ عنایت مرے آقا
ہو جائے اگر مجھ پہ عنایت مرے آقا
ہر آن کروں آپ کی مِدحت مرے آقا
کرتی رہوں توصیف میں اس شہرِ کرم کی
اس دل کی ہے بس ایک ہی حسرت مرے آقا
گر اذنِ حضوری ہو تو دربار میں آؤں
اور چوم لوں میں آپ کی چوکھٹ مرے آقا
جی بھر کے کروں گنبدِ خضریٰ کا نظارہ
آنکھوں میں بھروں سبز وہ رنگت مرے آقا
سو جاؤں کسی شب تو کھلیں میرے مقدر
اور خواب میں ہو جائے زیارت مرے آقا
اک بار جو دیکھوں رخِ انور کی جھلک میں
پھر نازؔ کو مل جائے گی راحت مرے آقا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.