Font by Mehr Nastaliq Web

دل میں سرکار کی یادوں کو بسائے رکھا

صفیہ ناز صابری

دل میں سرکار کی یادوں کو بسائے رکھا

صفیہ ناز صابری

MORE BYصفیہ ناز صابری

    دل میں سرکار کی یادوں کو بسائے رکھا

    خود کو بس نعت نگاری میں لگائے رکھا

    آپ کے نور سے ملتی رہی خامے کو ضیا

    اک دیا آپ کی مدحت کا جلائے رکھا

    نامِ احمد کے سوا کچھ نہیں بھاتا مجھ کو

    بس اسی نام کو اس دل میں چھپائے رکھا

    آپ آئیں گے کسی روز مرے گھر آقا

    اپنی پلکوں کو سرِ راہ بچھائے رکھا

    مرکزِ نور پہ آئے تو ہوئے اشک رواں

    ان کی دہلیز پہ سر اپنا جھکائے رکھا

    عمر بھر ہوتی رہی لطف و کرم کی بارش

    نازؔ عاصی کو بھی طیبہ میں بلائے رکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے