Font by Mehr Nastaliq Web

مجھے بلائیں مرے غم گسار اب کے برس

صفیہ ناز صابری

مجھے بلائیں مرے غم گسار اب کے برس

صفیہ ناز صابری

MORE BYصفیہ ناز صابری

    مجھے بلائیں مرے غم گسار اب کے برس

    میں لاؤں در پہ درودوں کے ہار اب کے برس

    فراقِ شاہ میں مرجھا گیا ہے نخلِ حیات

    خدایا اس پہ بھی آئے بہار اب کے برس

    نصیب جاگے کہ روضے کے سامنے ہی رہوں

    گزاروں ایسے ہی لیل و نہار اب کے برس

    مرا خیال ترے روضے کا طواف کرے

    مرے سخن پہ بھی آئے نکھار اب کے برس

    یہ آرزو ہے زیارت کی بھیک مل جائے

    بھکاریوں میں ہو میرا شمار اب کے برس

    نظر میں سبز بہاروں کا نور اترے گا

    ملے گا دل کو بہت ہی قرار اب کے برس

    ہے نازؔ کی یہ تمنا کہ چاکری میں رہوں

    جو رکھ لیں مجھ کو مرے تاجدار اب کے برس

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے