مجھ پر شہِ عرب کا ہر دم کرم رہے
مجھ پر شہِ عرب کا ہر دم کرم رہے
لکھتی رہوں میں نعتیں چلتا قلم رہے
جنبش نہ ہو لبوں کو سانسیں پڑھیں درود
عشقِ نبی ہو دل میں اور آنکھ نم رہے
ہو فکر میری روشن آقا کے نور سے
اور نعت کی نوازش یوں دم بدم رہے
مجھ کو ملے غلامی آقا کی آل کی
پوری ہو یہ تمنا کچھ تو بھرم رہے
ارمان ہے ازل سے طیبہ میں جا بسوں
آنکھوں کے سامنے پھر پیارا حرم رہے
شاہا ترے ذکر میں ہے نازؔ کا سکوں
ایسے ہی عمر گزرے کوئی نہ غم رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.