میں حمد پہلے بیان کر لوں تو نعت لکھ لوں
میں حمد پہلے بیان کر لوں تو نعت لکھ لوں
سخن کو شایانِ شان کر لوں تو نعت لکھ لوں
درود پڑھ کر میں پہلے قرطاسِ دل سجالوں
مشامِ جاں عطر دان کرلوں تو نعت لکھ لوں
ہر ایک لمحے مہک رہی ہوں ثنا کی کلیاں
دیارِ دل گلستان کر لوں تو نعت لکھ لوں
غلام زہرا کی آل کی ہوں میں بچپنے سے
نثار ان پر میں جان کر لوں تو نعت لکھ لوں
میں اپنی جاں میں بھی ایک طیبہ نگر بساؤں
میں دل کو ان کا مکان کر لوں تو نعت لکھ لوں
ہے نازؔ کی بس یہی تمنا کہ وقتِ آخر
ذرا مدینے کا دھیان کر لوں تو نعت لکھ لوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.