Font by Mehr Nastaliq Web

یہی ہے آرزو ایسی کوئی تدبیر ہو جائے

صفیہ ناز صابری

یہی ہے آرزو ایسی کوئی تدبیر ہو جائے

صفیہ ناز صابری

MORE BYصفیہ ناز صابری

    یہی ہے آرزو ایسی کوئی تدبیر ہو جائے

    مدینے کا سفر یا رب مری تقدیر ہو جائے

    ہمیشہ حاضری ہوتی رہے آقا کی چوکھٹ پر

    اشارہ آپ فرما دیں تو کیوں تاخیر ہو جائے

    سمو لوں اپنی آنکھوں میں اجالا سبز گنبد کا

    مری تو زندگی میں ہر طرف تنویر ہو جائے

    بناؤں دل کے کاغذ پر میں نقشہ شہرِ طیبہ کا

    ہمیشہ کے لیے محفوظ یہ تصویر ہو جائے

    ثنا گوئی میں گزرے زندگی آقا کی نگری میں

    بڑی ہی خوبصورت خواب کی تعبیر ہو جائے

    شہِ والا یہ فرما دیں بہت ہی خوبصورت ہے

    کوئی تو نعت ایسی نازؔ سے تحریر ہو جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے