Font by Mehr Nastaliq Web

رکھے ہیں حمد و نعت کے موتی سنبھال کے

صفیہ ناز صابری

رکھے ہیں حمد و نعت کے موتی سنبھال کے

صفیہ ناز صابری

MORE BYصفیہ ناز صابری

    رکھے ہیں حمد و نعت کے موتی سنبھال کے

    لائی تھی جو میں دل کے صدف سے نکال کے

    خیرالوریٰ کی یاد میں کٹتے ہیں رات دن

    لگتا ہے آنے والے ہیں لمحے وصال کے

    شمس الضحیٰ کے نور سے روشن ہے ماہتاب

    ہیں معترف نجوم بھی ان کے جمال کے

    ایمان ملا عشقِ نبی بھی عطا ہوا

    کس اوج پر نصیب ہیں حبشی بلال کے

    جب بھی تڑپ کے عرض کی در پر بلا لیا

    بے حد کرم ہوئے ہیں شہِ بے مثال کے

    ہندہ کو بھی معاف کیا جس کریم نے

    قرآں میں تذکرے ہیں اسی خوش خصال کے

    اس نازؔ پر ہیں آپ کی بے حد نوازشیں

    لائی ہے ساری نعمتیں دامن میں ڈال کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے