Font by Mehr Nastaliq Web

ذکرِ سرکار سے کچھ ایسی ضیا پائی ہے

صفیہ ناز صابری

ذکرِ سرکار سے کچھ ایسی ضیا پائی ہے

صفیہ ناز صابری

MORE BYصفیہ ناز صابری

    ذکرِ سرکار سے کچھ ایسی ضیا پائی ہے

    چاندنی جیسے مرے دل میں اتر آئی ہے

    میرے ادراک میں مہکی ہیں ثنا کی کلیاں

    گلشنِ طیبہ سے اپنی بھی شناسائی ہے

    مدحتِ شاہ میں مشغول رہوں شام و سحر

    دل مرا ایسی سعادت کا تمنائی ہے

    یہ ہنر ہو کہ میں اشعار کی لڑیاں باندھوں

    منتظر کب سے مرے خامے کی رشنائی ہے

    اب تو لگتا ہے کہ انوار کی بارش ہوگی

    اجلی اجلی ہے فضا نوری گھٹا چھائی ہے

    تجھ کو اے نازؔ بلاتے ہیں رسولِ عربی

    آج طیبہ سے یہ پیغام صبا لائی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے