بے حد و انتہا ہے برکت درود کی
بے حد و انتہا ہے برکت درود کی
افکار میں سوا ہے فرحت درود کی
قربت کا سلسلہ ہے آقا کریم سے
کیف آفریں بہت ہے کثرت درود کی
اس دل میں ہو گا روشن اک نور کا دیا
جس دل میں بس گئی ہو الفت درود کی
محسوس ان کو ہو گی خوشبو حضور کی
جن کو بھی مل گئی ہے نعمت درود کی
سر پر درود محشر میں ہوگا سائباں
گھیرے رہے گی ہم کو رحمت درود کی
مقبولیت دعا کی ہوتی ہے اس کے ساتھ
دیکھی ہے یہ بھی اکثر حکمت درود کی
آلِ نبی کا صدقہ توفیق مل گئی
صد شکر نازؔ کو ہے عادت درود کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.