Font by Mehr Nastaliq Web

رگِ جاں ذکرِ احمد سے بہت سرشار ہوتی ہے

صفیہ ناز صابری

رگِ جاں ذکرِ احمد سے بہت سرشار ہوتی ہے

صفیہ ناز صابری

MORE BYصفیہ ناز صابری

    رگِ جاں ذکرِ احمد سے بہت سرشار ہوتی ہے

    میں بھیجوں جب درود ان پر تو پُر انوار ہوتی ہے

    کبھی جو کچھ بھی مانگا ہے سخی حسنین کے صدقے

    کرم ہر بار ہوتا ہے عطا ہر بار ہوتی ہے

    جو کرتے ہیں محبت مصطفیٰ کی آل سے ہر دم

    تو ان پر ہر گھڑی پھر رحمتِ غفار ہوتی ہے

    نظر کے سامنے رہتا ہے روضہ شاہِ بطحیٰ کا

    مقدر سے نگاہِ سیدِ ابرار ہوتی ہے

    بسی ہے نازؔ کے دل میں محبت کملی والے کی

    نہ ہو ان کی ولا تو زندگی بے کار ہوتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے