Font by Mehr Nastaliq Web

میں لکھ لوں نعت جب تو نور کی برسات ہوتی ہے

صفیہ ناز صابری

میں لکھ لوں نعت جب تو نور کی برسات ہوتی ہے

صفیہ ناز صابری

MORE BYصفیہ ناز صابری

    میں لکھ لوں نعت جب تو نور کی برسات ہوتی ہے

    تصور میں مرے بس مصطفیٰ کی ذات ہوتی ہے

    چھلک جاتے ہیں آنکھوں سے یہ اشکوں کے حسیں موتی

    کہ جب سرکار کے لطف و کرم کی بات ہوتی ہے

    میں اپنے دل کے آنگن میں کبھی محفل سجاتی ہوں

    تو میرے چار سو جلوؤں کی اک بارات ہوتی ہے

    مرے افکار میں الفاظ ایسے ہی چمکتے ہیں

    کہ جیسے تیرگی میں جگمگاتی رات ہوتی ہے

    مجھے شعر و سخن کا کچھ سلیقہ تو نہیں آتا

    عطا سرکار کی میرے لیے سوغات ہوتی ہے

    مَیں مدحت کے لیے الفاظ کے موتی پروتی ہوں

    لڑی پیاری سی بن جائے تو ان کی نعت ہوتی ہے

    میں نازاں ہوں مقدر پر کہ مِل جاتا ہے بن مانگے

    مری جھولی میں ان کے فیض کی خیرات ہوتی ہے

    سو لے کر سوت کی اٹی یہ ہمت نازؔ نے کر لی

    خریداروں میں مفلس کی بھی کیا اوقات ہوتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے