Font by Mehr Nastaliq Web

عشقِ احمد کا دیا دل میں جلائے رکھوں

صفیہ ناز صابری

عشقِ احمد کا دیا دل میں جلائے رکھوں

صفیہ ناز صابری

MORE BYصفیہ ناز صابری

    عشقِ احمد کا دیا دل میں جلائے رکھوں

    ہر گھڑی ذکر کی محفل بھی سجائے رکھوں

    کاش قدموں میں بلا لیں مجھے سرکارِ جہاں

    پھر اسی در پہ جبیں اپنی جھکائے رکھوں

    باغِ طیبہ سے چنوں روز ثنا کی کلیاں

    خود کو بس نعت نگاری میں لگائے رکھوں

    سبز گنبد کے تلے شام و سحر بیٹھی رہوں

    دل حرم پاک کے جلووں سے سجائے رکھوں

    جن گزر گاہوں سے گزرے تھے کبھی شاہِ امم

    خاک ان راہوں کی میں سرمہ بنائے رکھوں

    آپ کی یاد کی خوشبو مری سانسوں میں رہے

    اسی خوشبو سے دلِ نازؔ بسائے رکھوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے