کوئی نغمہ چھیڑو مطرب بہ ادائے دلبرانہ
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
کوئی نغمہ چھیڑو مطرب بہ ادائے دلبرانہ
جسے سن کے جھوم اٹھے مرا سنگ دل زمانہ
جو بتوں میں روح بھر دے وہ نوائے باغیانہ
جو حرم کو دیر کر دے وہ صدائے کافرانہ
ترا ساغرِ صبوحی ابھی نیم رس ہے ساقی
جو سحر کو رات کر دے، وہی بادۂ شبانہ
بڑی نا تمامیاں ہیں مرے جذبۂ خودی میں
مجھے بے خودی عطا کر بہ جلالِ خسروانہ
نہ مرا جنوں مکمل، نہ مری خرد مکمل
ہے جنوں فریبِ مطلق ہے خرد مری بہانہ
ترے سازِ سرمدی سے یہ صدائیں آ رہی ہیں
کہ دھنیں تو مختلف ہیں مگر ایک ہے ترانہ
یہاں جس کی ساحری سے نئی نسل مسکرائی
مرے لفظ لفظ میں ہے وہی نطقِ جاودانہ
نئے ہند کو زباں دی ترے نطقِ سرمدی نے
مرے بت کدے کی ضو ہے ترا سوزِ عاشقانہ
بڑی مشکلوں سے سمجھی تری زندگی کو دنیا
بڑی مدتوں میں آیا تری راہ پر زمانہ
تھے جو صاحبانِ حشمت نہیں خاک ان کی باقی
ترا فقر جاگتا ہے یہ جلالِ عاشقانہ
یہ حجابِ خاک دہلی سے صدائیں آ رہی ہیں
کہ ہے تاج و تخت سپنا، ہے شہنشہی فسانہ
اسی آستاں سے مجھ کو نئی زندگی ملی ہے
مجھے ہر نفس ہے ساغرؔ اک حیاتِ جاودانہ
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 19)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.