شیخ نظام سے جو دعا و سلام ہے
دلچسپ معلومات
نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "از شیخ نظام چوں سلامست مرا" کا اردو منظوم ترجمہ۔
شیخ نظام سے جو دعا و سلام ہے
حسن عمل سے زندگی عیش مدام ہے
بھرتا ہوں صبح و شام مرادوں کی جھولیاں
ملتا ہے جس سے فیض وہ شیخ نظام ہے
خواہاں تھا ترک مست کہ ایماں کرے خراب
اپنی نگاہِ ناز سے جینا کرے عذاب
پیتا تھا میرا خون وہ مثل شراب ناب
میرے دل گداز کو کرتا رہا کباب
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 149)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.