ہمیشہ دردِ محبت سے ہمکنار تھا تو
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
ہمیشہ دردِ محبت سے ہمکنار تھا تو
کچھ ایسا والہ و شیدائے حسنِ یار تھا تو
تجھے نوازا تھا حق نے ہر ایک نعمت سے
امیری میں بھی فقیری کا دعویدار تھا تو
سپاہی، صوفی و شاعر، ادیب اور نائک
کمالِ عشق میں یکتائے روزگار تھا تو
ہے تیری ذات پہ نازاں جو فنِ موسیقی
جہانِ علم و عمل کا بھی تاجدار تھا تو
تھا ایکتا ترا مقصد، ولیِ قوم تھا تو
وطن کے عشق میں کس درجہ بے قرار تھا تو
کسی کا دکھ ہو، ترے دل پہ تھا اثر اس کا
ہر اک ستم زدہ انساں کا غم گسار تھا تو
جہاں سے نام کبھی تیرا مٹ نہیں سکتا
گذشتہ اہلِ محبت کی یادگار تھا تو
ادا شناسِ محبت تھا دل ترا خسروؔ
جبھی تو واقفِ اسرارِ روزگار تھا تو
بیاں اب ترے اوصاف کیا کرے ساحرؔ
ہے مختصر یہ کہ قدرت کا شاہکار تھا تو
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 35)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.