جام صہبائے حقیقت پی کے پھر مستانہ بن
جام صہبائے حقیقت پی کے پھر مستانہ بن
تو محمد مصطفیٰ کی یاد میں دیوانہ بن
جذب کر لے دل میں اتنی مئے کہ بس پیمانہ بن
عشق اتنا ہو کہ پیمانہ سے خود میخانہ بن
نورِ وحدت پیکرِ تنویر عرفاں ہے وہی
ہے حقیقت کوش تو اس شمع کا پروانہ بن
اس شہ کونین کی الفت میں خود کو بھول جا
گر اسے دیوانگی کہتے ہیں تو دیوانہ بن
عشقِ احمد میں فنا ہو جا عبادت ہے یہی
عشق کرنا ہے حقیقت میں تو خود افسانہ بن
روضۂ انور پر ساحرؔ سرنگوں ہو اس طرح
خود فنا ہو کر مجسم سجدۂ شکرانہ بن
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.