Font by Mehr Nastaliq Web

جام صہبائے حقیقت پی کے پھر مستانہ بن

ساحر ہوشیار پوری

جام صہبائے حقیقت پی کے پھر مستانہ بن

ساحر ہوشیار پوری

MORE BYساحر ہوشیار پوری

    جام صہبائے حقیقت پی کے پھر مستانہ بن

    تو محمد مصطفیٰ کی یاد میں دیوانہ بن

    جذب کر لے دل میں اتنی مئے کہ بس پیمانہ بن

    عشق اتنا ہو کہ پیمانہ سے خود میخانہ بن

    نورِ وحدت پیکرِ تنویر عرفاں ہے وہی

    ہے حقیقت کوش تو اس شمع کا پروانہ بن

    اس شہ کونین کی الفت میں خود کو بھول جا

    گر اسے دیوانگی کہتے ہیں تو دیوانہ بن

    عشقِ احمد میں فنا ہو جا عبادت ہے یہی

    عشق کرنا ہے حقیقت میں تو خود افسانہ بن

    روضۂ انور پر ساحرؔ سرنگوں ہو اس طرح

    خود فنا ہو کر مجسم سجدۂ شکرانہ بن

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے