اے باعثِ صد فخرِ جہاں شانِ مدینہ
اے باعثِ صد فخرِ جہاں شانِ مدینہ
اے نغمہ سرا بلبلِ بستانِ مدینہ
اے موجبِ صد شانِ وطن جانِ مدینہ
اے رنگِ وفا زینتِ ایوانِ مدینہ
کہتے ہیں تجھے اہلِ نظر جان مدینہ
کرتا تھا ہمیں بادۂ عرفاں سے تو سرشار
تو نورِ صداقت کا تھا دنیا میں علمدار
تو تھا نہ کسی سے نہ کوئی تجھ سے تھا بیزار
ایمان کا رہبر تھا تو اے پیکرِ انوار
کہتے ہیں تجھے شمعِ شبستانِ مدینہ
ہوں نغمۂ توحید سے معمور فضائیں
بادل کی گرج میں ہوں مسرت کی صدائیں
اک کیف میں ڈوبی ہوئی سرمست ہوائیں
آمد کا تیرے مژدۂ جاں بخش سنائیں
روشن ہو ترے نور سے ایوانِ مدینہ
لب پہ مرے اب اک یہ دعا صبح و مسا ہے
میرے دلِ مضطر کی فقط اب یہ صدا ہے
کانوں میں گلوں کے بھی یہی کہتی صبا ہے
اب کوئی دعا ہے تو یہی میری دعا ہے
ہو روح مری بلبلِ بستانِ مدینہ
ہاں طالب دیدار کو پھر جلوہ دکھا دے
ہر ذرہ کو پھر رشکِ سرِ طور بنا دے
آ اور خلش پھر دلِ ساحرؔ کی مٹا دے
پھر آ کے دل آویز کوئی نغمہ سنا دے
اے نغمہ سرا بلبلِ بستان مدینہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.