کیا زمیں پر یہ ہے اب عرش علا کی آمد
کیا زمیں پر یہ ہے اب عرش علا کی آمد
ایسی دیکھی ہی نہیں نور و ضیا کی آمد
چاند تاروں کے علاوہ ہے یہ تاباں کیا کیا
سوئے ارض آج ہے کیوں اہل سما کی آمد
یہ بہاریں گل تازہ کی اور اس پر ہر سو
بلبل مست نوا نغمہ سرا کی آمد
یہ خوش آئندہ نسیم سحری کے جھونکے
پے بہ پے چار طرف باد صبا کی آمد
اہل ظاہر کی بھی پڑنے لگی باطن پہ نظر
اور نظر آنے لگے صدق و صفا کی آمد
آمد احمد کی ہے اور شان یہی ہے وہ شان
جو نہیں رکھتی کسی راہنما کی آمد
پئے تعظیم اٹھو اب یہ ادب کا ہے محل
آ گیا آج تھی جس شاہِ ہدا کی آمد
السلام اے شہ کونین زہے فضل خدا
آپ کی آمد اور اس دینِ خدا کی آمد
السلام اے شہ دیں کفر کو یہ نازش کفر
خوب ہے درد جو ہے ایسی دوا کی آمد
السلام اے سببِ فضل خدائے برحق
اے زہے عقد زہے عقدہ کشا کی آمد
السلام امت عاصی کو شفاعت والے
اے مبارک یہ ترے لب پہ دعا کی آمد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.