نہ ہوتا گر ثنا خواں خالق اکبر محمد کا
نہ ہوتا گر ثنا خواں خالق اکبر محمد کا
تو ہوتا خلق پر رتبہ عیاں کیوں کر محمد کا
محمد کی بشارت دینے کو پیغمبری پائی
غرض ممنون ہے ہر ایک پیغمبر محمد کا
جبیں سائی کی حسرت جبہہ سائی کے یہ ارماں ہیں
ہمارا سر ہو یا رب اور سنگ در محمد کا
لگی پھر نے بہار جنت فردوس آنکھوں میں
جو چاہا دل نے دیکھوں روضۂ انور محمد کا
یہاں سیراب زمزم سے کیا ہے تشنہ کاموں کو
کرم تو دیکھنا چل کر لب کوثر محمد کا
بس اوصاف حمیدہ کا خلاصہ اے سخاؔ یہ ہے
ہوا ہے کوئی اب تک اور نہ ہو ہمسر محمد کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.