Font by Mehr Nastaliq Web

دلِ بیتاب کو سینے سے لگالے آ جا

سخا میرٹھی

دلِ بیتاب کو سینے سے لگالے آ جا

سخا میرٹھی

MORE BYسخا میرٹھی

    دلِ بیتاب کو سینے سے لگالے آ جا

    کہ سنبھلتا نہیں کم بخت سنبھالے آ جا

    پاؤں ہیں طولِ شبِ غم نے نکالے آ جا

    خواب میں زلف کو مکھڑے سے لگا لے آ جا

    بے نقاب آج تو اے گیسوؤں والے آ جا

    نہیں خورشید کو ملتا ترے سائے کا پتہ

    کہ بنا نورِ ازل سے ہے سراپا تیرا

    اللہ اللہ ترے چاند سے مکھڑے کی ضیا

    کون ہے ماہِ عرب کون ہے محبوب خدا

    اے دو عالم کے حسینوں سے نرالے آ جا

    دل ہی دل میں مرے ارمان کھلے جاتے ہیں

    خاک میں مل کے دُرِ اشک رُلے جاتے ہیں

    تیری رسوائی پہ کم بخت تُلے جاتے ہیں

    ہوں سیہ کار مرے عیب کھلے جاتے ہیں

    کملی والے مجھے کملی میں چھپالے آ جا

    کان میں کچھ جو ادھر عذرِ نزاکت نے کہا

    مرحبا بڑھ کے ادھر شاہدِ وحدت نے کہا

    آ بلائیں تری لوں جوشِ محبت نے کہا

    پہنچا محبوب تو مشاطۂ قدرت نے کہا

    خلوت راز میں اے ناز کے پالے آجا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے