Font by Mehr Nastaliq Web

ترا مداح ہوں مجھ پر نظر یوں ہو تو بہتر ہے

سخا میرٹھی

ترا مداح ہوں مجھ پر نظر یوں ہو تو بہتر ہے

سخا میرٹھی

MORE BYسخا میرٹھی

    ترا مداح ہوں مجھ پر نظر یوں ہو تو بہتر ہے

    اب اعدا پہ نبی مجھ کو ظفر یوں ہو تو بہتر ہے

    سنا آئے عربی نعت اور مرا انعام لے آئے

    صبا تیرا مدینے میں گذر یوں ہو تو بہتر ہے

    مری پرسش خدا کے سامنے کیا جانے کیوں کر ہو

    کہا ’’ہے نعت گو ہندو‘‘ اگر یوں ہو تو بہتر ہے

    نبی کا بحر رحمت جوش سے خود آ ملے اس میں

    مرا عشق رواں رشک گہر یوں ہو تو بہتر ہے

    کلام حق ہو تفسیراً حدیث پاک توضیحا

    یہ بزم وصف احمد رات بھر یوں ہو تو بہتر ہے

    یہ داغ عشق احمد اک سند کافی ہے محشر تک

    ہماری طرح کوئی بے خطر یوں ہو تو بہتر ہے

    کبھی ہو یاد کا کل اور کبھی یاد رخ احمد

    بسر عشاق کی شام و سحریوں ہو تو بہتر ہے

    ادب سیکھو کرو ہر ہر قدم پہ شوق سے سجدے

    حرم والو مدینے کا سفر یوں ہو تو بہتر ہے

    خدا کی بندگی یہ ہے کہ اول عشق احمد ہو

    خدا کا عشق کیا کہنا مگر یوں ہو تو بہتر ہے

    یہ وہ ہے مر گیا جو روتے روتے ہجر احمد ہو

    یہ میری قبر پر تم نوحہ گر یوں ہو تو بہتر ہے

    یہ وہ ہے مرگیا جو روتے روتے ہجر احمد میں

    یہ مری قبر پر تم نوحہ گر یوں ہو تو بہتر ہے

    محمد نور ایماں ہیں انہیں دل میں جگہ دیجے

    سخاؔ ایمان دل میں جلوہ گر یوں ہو تو بہتر ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے