ترا مداح ہوں مجھ پر نظر یوں ہو تو بہتر ہے
ترا مداح ہوں مجھ پر نظر یوں ہو تو بہتر ہے
اب اعدا پہ نبی مجھ کو ظفر یوں ہو تو بہتر ہے
سنا آئے عربی نعت اور مرا انعام لے آئے
صبا تیرا مدینے میں گذر یوں ہو تو بہتر ہے
مری پرسش خدا کے سامنے کیا جانے کیوں کر ہو
کہا ’’ہے نعت گو ہندو‘‘ اگر یوں ہو تو بہتر ہے
نبی کا بحر رحمت جوش سے خود آ ملے اس میں
مرا عشق رواں رشک گہر یوں ہو تو بہتر ہے
کلام حق ہو تفسیراً حدیث پاک توضیحا
یہ بزم وصف احمد رات بھر یوں ہو تو بہتر ہے
یہ داغ عشق احمد اک سند کافی ہے محشر تک
ہماری طرح کوئی بے خطر یوں ہو تو بہتر ہے
کبھی ہو یاد کا کل اور کبھی یاد رخ احمد
بسر عشاق کی شام و سحریوں ہو تو بہتر ہے
ادب سیکھو کرو ہر ہر قدم پہ شوق سے سجدے
حرم والو مدینے کا سفر یوں ہو تو بہتر ہے
خدا کی بندگی یہ ہے کہ اول عشق احمد ہو
خدا کا عشق کیا کہنا مگر یوں ہو تو بہتر ہے
یہ وہ ہے مر گیا جو روتے روتے ہجر احمد ہو
یہ میری قبر پر تم نوحہ گر یوں ہو تو بہتر ہے
یہ وہ ہے مرگیا جو روتے روتے ہجر احمد میں
یہ مری قبر پر تم نوحہ گر یوں ہو تو بہتر ہے
محمد نور ایماں ہیں انہیں دل میں جگہ دیجے
سخاؔ ایمان دل میں جلوہ گر یوں ہو تو بہتر ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.