زمین پر اگر دیوتا کچھ نہ ہوتے تو انسان شاید پریشاں ہی رہتا
زمین پر اگر دیوتا کچھ نہ ہوتے تو انسان شاید پریشاں ہی رہتا
سلام مچھلی شہری
MORE BYسلام مچھلی شہری
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
زمین پر اگر دیوتا کچھ نہ ہوتے تو انسان شاید پریشاں ہی رہتا
نظارے تو ہوتے بہاریں تو ہوتیں مگر گلشن فکر ویراں ہی رہتا
حقیقت کا مفہوم واضح نہ ہوتا، اگر دل نشیں کلپنائیں نہ ہوتیں
کوئی خاص منظر نکھر ہی نہ پاتا، جو اس کے لیے کچھ فضائیں نہ ہوتیں
حقیقت کی ان ضوفشاں منزلوں میں، حسیں خواب اب مسکرانے لگے ہیں
بزرگوں نے جو دیپ روشن کیے تھے، وہی دیپ پھر جگمگانے لگے ہیں
کلا اور سنگیت کے دیپ پھر سے، مقدس فضاؤں میں جلنے لگے ہیں
زہے عہد حاضر کہ حافظ کے بربط، یہ میرا کے نغمے مچلنے لگے ہیں
مبارک کہ وادیِ گنگ و جمن میں، کلا کوئی زندگی مل رہی ہے
مبارک کہ پھر طوطیٔ ہند خسرو کے افکار کی روشنی مل رہی ہے
نئی روشنی میں نئے تاج محلوں، اجنتاؤں کا جنم ہونے لگا ہے
ہمارے کلا مندروں سے قریب آج ،پھر پیار کا دھرم ہونے لگا ہے
ملی ہے ضیا بار تعبیر جس کی، وہی خواب پہلے بھی دیکھا گیا تھا
مبارک وطن کی سحر کہہ رہی ہے کہ آفتابوں کا اک سلسلہ تھا
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 24)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.