کرتا ہے کوئی آپ سے فریاد نبی جی
کرتا ہے کوئی آپ سے فریاد نبی جی
ہوتا نہیں دل رنج سے آزاد نبی جی
جو مرحلہ درپیش ہے، وہ طے نہیں ہوتا
ہر ایک قدم ہے نئی افتاد نبی جی
اک خوف ہے جو جاں کو رہائی نہیں دیتا
اب ختم ہو! اس قید کی معیاد نبی جی
میں اور مرے ماں باپ، مٹیں آپ کی خاطر
ہو آپ کی پیرو مری اولاد نبی جی
اک روز تو میں حاضرِ خدمت بھی ہوا تھا
رو رو کے سنائی تھی روداد نبی جی
میں اپنے ہی پیروں پہ کھڑا ہو نہیں سکتا
امداد ہو امداد ہو امداد نبی جی
وہ پہلی نظر آپ کے در پر جو پڑی تھی
پر دل کا نگر، اس سے ہے آباد نبی جی
اعزاز مرا ہے تو فقط آپ سے نسبت
بیکار ہیں باقی سبھی اسناد نبی جی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.