Font by Mehr Nastaliq Web

کرتا ہے کوئی آپ سے فریاد نبی جی

سلیم طاہر

کرتا ہے کوئی آپ سے فریاد نبی جی

سلیم طاہر

MORE BYسلیم طاہر

    کرتا ہے کوئی آپ سے فریاد نبی جی

    ہوتا نہیں دل رنج سے آزاد نبی جی

    جو مرحلہ درپیش ہے، وہ طے نہیں ہوتا

    ہر ایک قدم ہے نئی افتاد نبی جی

    اک خوف ہے جو جاں کو رہائی نہیں دیتا

    اب ختم ہو! اس قید کی معیاد نبی جی

    میں اور مرے ماں باپ، مٹیں آپ کی خاطر

    ہو آپ کی پیرو مری اولاد نبی جی

    اک روز تو میں حاضرِ خدمت بھی ہوا تھا

    رو رو کے سنائی تھی روداد نبی جی

    میں اپنے ہی پیروں پہ کھڑا ہو نہیں سکتا

    امداد ہو امداد ہو امداد نبی جی

    وہ پہلی نظر آپ کے در پر جو پڑی تھی

    پر دل کا نگر، اس سے ہے آباد نبی جی

    اعزاز مرا ہے تو فقط آپ سے نسبت

    بیکار ہیں باقی سبھی اسناد نبی جی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے