Font by Mehr Nastaliq Web

آپ کا جس میں واسطہ ہی نہیں

ثمر بدایونی

آپ کا جس میں واسطہ ہی نہیں

ثمر بدایونی

MORE BYثمر بدایونی

    آپ کا جس میں واسطہ ہی نہیں

    رب کو منظور وہ دعا ہی نہیں

    آپ جیسا کوئی ہوا ہی نہیں

    دوسرا کوئی مصطفیٰ ہی نہیں

    دوسرا مصطفیٰ بنائے کون ؟

    جب کوئی دوسرا خدا ہی نہیں

    اک محمد ہی نام ایسا ہے

    ان سے پہلے یہ نام تھا ہی نہیں

    بس وہی عرش کے مسافر ہیں

    یہ کسی کو شرف ملا ہی نہیں

    پھول جو باغِ آمنہ میں کھلا

    وہ کسی باغ میں کھلا ہی نہیں

    بس مدینے سے ہو کے جاتا ہے

    خلد کا اور راستہ ہی نہیں

    فاصلہ عرش سے مدینے کا

    فاصلہ کہیے فاصلہ ہی نہیں

    وہ تو میرے نبی کا تھا اعجاز

    سورج ایسے تو لوٹتا ہی نہیں

    یادِ احمد میں جو بھی کھویا ہو

    عیش و عشرت وہ ڈھونڈتا ہی نہیں

    ان کے روضے کو میں نے دیکھ لیا

    اب مقدر سے کچھ گلا ہی نہیں

    یہ مرے شعر ہیں عطائے رسول

    شعر کہنا میں جانتا ہی نہیں

    وہ نہ ہوتے اگر ثمرؔ ہم کو

    کوئی دنیا میں پوچھتا ہی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے