آپ کا جس میں واسطہ ہی نہیں
آپ کا جس میں واسطہ ہی نہیں
رب کو منظور وہ دعا ہی نہیں
آپ جیسا کوئی ہوا ہی نہیں
دوسرا کوئی مصطفیٰ ہی نہیں
دوسرا مصطفیٰ بنائے کون ؟
جب کوئی دوسرا خدا ہی نہیں
اک محمد ہی نام ایسا ہے
ان سے پہلے یہ نام تھا ہی نہیں
بس وہی عرش کے مسافر ہیں
یہ کسی کو شرف ملا ہی نہیں
پھول جو باغِ آمنہ میں کھلا
وہ کسی باغ میں کھلا ہی نہیں
بس مدینے سے ہو کے جاتا ہے
خلد کا اور راستہ ہی نہیں
فاصلہ عرش سے مدینے کا
فاصلہ کہیے فاصلہ ہی نہیں
وہ تو میرے نبی کا تھا اعجاز
سورج ایسے تو لوٹتا ہی نہیں
یادِ احمد میں جو بھی کھویا ہو
عیش و عشرت وہ ڈھونڈتا ہی نہیں
ان کے روضے کو میں نے دیکھ لیا
اب مقدر سے کچھ گلا ہی نہیں
یہ مرے شعر ہیں عطائے رسول
شعر کہنا میں جانتا ہی نہیں
وہ نہ ہوتے اگر ثمرؔ ہم کو
کوئی دنیا میں پوچھتا ہی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.