باخدا ایسی دھمک شبیر کے لہجے میں ہے
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت امام حسین (کربلا-عراق)
باخدا ایسی دھمک شبیر کے لہجے میں ہے
جس کو سن کر روحِ باطل سر تا پا لرزے میں ہے
آئینہ وہ آئنہ ہے جس میں ہے عکسِ حسین
اس کی قیمت کچھ نہیں ہے بال جس شیشے میں ہے
خلد کہتے ہیں جسے وہ ملک ہے حسنین کی
ذرہ ذرہ خلد کا حسنین کے قبضے میں ہے
خلد کی چاہت اگر ہے عشق کر حسنین سے
خلد کے مالک وہی ہیں ان کے ہی قبضے میں ہے
بوئے احمد بوئے حیدر بوئے حسنین و بتول
سر زمینِ کربلا کے ایک اک ذرے میں ہے
ناز کرتی ہے شہادت اصغرِ معصوم پر
ایسا جذبہ ایسی ہمت کیا کسی بچے میں ہے
قصرِ شاہی کے ہلا کر رکھ دے جو دیوار و در
یہ اثر تو حضرتِ زینب کے بس خطبے میں ہے
بات اگر یہ پوچھنی ہے تو عمر سے پوچھیے
ایسی کیا ہے بات جو شبیر کے لکھے میں ہے
آپ کا انکارِ بیعت آپ کا نیزے پہ سر
حق پرستی حق نوائی آپ کے شجرے میں ہے
عشقِ اہلِ بیت سے خالی ہے جس کی بھی دکاں
اس سے یہ کہہ دو ثمرؔ تم وہ بڑے گھاٹے میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.