دلوں میں عشق احمد کو بسائے ایسی مدحت ہو
دلوں میں عشق احمد کو بسائے ایسی مدحت ہو
ادب کا منصبِ اعلیٰ دلائے ایسی مدحت ہو
عطا حسنِ ارادت ہو بصیرت بھی ملے مجھ کو
سبق سیرت کا جو ازبر کرائے ایسی مدحت ہو
سلیقہ مجھ کو بھی حسنِ بیاں کا دے مرے مولیٰ
حریمِ حرف میں خوشبو بسائے ایسی مدحت ہو
میں کھو جاتی ہوں اکثر یادِ طیبہ میں مرے مولیٰ
رسائی مجھ کو طیبہ تک دلائے ایسی مدحت ہے
وہ مدحت ہو کہ جس میں حرمتِ سرور مجسم ہو
جو میری فکر کو اعلیٰ بنائے ایسی مدحت ہو
ثنائے شاہِ طیبہ کا قرینہ بھی میسر ہو
گہر افکار کے ہر سو لٹائے ایسی مدحت ہو
اویسی اور بلالی عشق کی تنویر مل جائے
مرے الفاظ میں خوشبو سمائے ایسی مدحت ہو
یہی اک آرزو ہے نازؔ کی اب اے مرے آقا
درِ اقدس پہ آکر خود سنائے ایسی مدحت ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.