Font by Mehr Nastaliq Web

دلوں میں عشق احمد کو بسائے ایسی مدحت ہو

سمیعہ ناز

دلوں میں عشق احمد کو بسائے ایسی مدحت ہو

سمیعہ ناز

MORE BYسمیعہ ناز

    دلوں میں عشق احمد کو بسائے ایسی مدحت ہو

    ادب کا منصبِ اعلیٰ دلائے ایسی مدحت ہو

    عطا حسنِ ارادت ہو بصیرت بھی ملے مجھ کو

    سبق سیرت کا جو ازبر کرائے ایسی مدحت ہو

    سلیقہ مجھ کو بھی حسنِ بیاں کا دے مرے مولیٰ

    حریمِ حرف میں خوشبو بسائے ایسی مدحت ہو

    میں کھو جاتی ہوں اکثر یادِ طیبہ میں مرے مولیٰ

    رسائی مجھ کو طیبہ تک دلائے ایسی مدحت ہے

    وہ مدحت ہو کہ جس میں حرمتِ سرور مجسم ہو

    جو میری فکر کو اعلیٰ بنائے ایسی مدحت ہو

    ثنائے شاہِ طیبہ کا قرینہ بھی میسر ہو

    گہر افکار کے ہر سو لٹائے ایسی مدحت ہو

    اویسی اور بلالی عشق کی تنویر مل جائے

    مرے الفاظ میں خوشبو سمائے ایسی مدحت ہو

    یہی اک آرزو ہے نازؔ کی اب اے مرے آقا

    درِ اقدس پہ آکر خود سنائے ایسی مدحت ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے