ہوں تیری ہی رحمت کا طلب گار محمد
ہوں تیری ہی رحمت کا طلب گار محمد
مجھ پر بھی نظر اے میری سرکار محمد
ہر مظہرِ قدرت کی پرستش کو کہا شرک
تو وحدتِ حق کا تھا پرستار محمد
امت کے لیے کھل گئے جنت کے در و باب
پہنچا جو وہاں قافلہ سالار محمد
کافر ہوں کہ دیندار ہوں ہندو ہوں کہ مسلم
تو سب کی نگاہوں میں ہے سردار محمد
آ جا کہ تیری دید کی آنکھوں کو ہے حسرت
کرتا ہے سمنؔ تجھ سے یہ اصرار محمد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.