بڑھیا نہ فکر کر کہ نگہباں کریم ہے
بڑھیا نہ فکر کر کہ نگہباں کریم ہے
وہ جانتا ہے حال دلوں کا علیم ہے
مت فکر کر کہ رحم کرے گا وہ کبریا
کیوں کر کہ ذات اس کی غفور الرحیم ہے
ہے اس کے فضل ہی سے مرادِ دل حصول
کر دے نہال دم میں وہ ایسا کریم ہے
سب کو فنا ہے اِک بقا ہے اسی کی ذات
قایم علی الدوام وہ رب قدیم ہے
یا رب کرم سے بخش دے میری خطائیں سب
یہ سرورؔ حزیں تیرا بندہ اثیم ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.