چلے جاؤ دغابازو یہاں سے
چلے جاؤ دغابازو یہاں سے
نہ مطلب ہے تمہاری داستاں سے
تعرض تم رکھو ہم سے نہ اصلا
نہیں مانیں گے کہنا تمہارا
یہی ہے حکم بس مجھ کو نبی کا
کروں تاخیر یہ ہر گز نہ ہوگا
بجا ارشاد گر ان کا نہ لائیں
بھلا منھ کیا انہیں جا کر دکھائیں
فقیروں کو نہیں آرام در کار
یہی جنگل ہے ہم کو شکل گلزار
نہ خواہش قصر کی ہے ہم کو اصلا
یہ صحرا قصر سے ہے ہم کو پیارا
نہیں زینت جہاں کی ہم کو مرغوب
ہمیں تکلیف میں رہنا ہے بس خوب
کروں اوصاف کیا میں ان کی سرورؔ
زباں ہے اپنی بس واللہ قاصر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.