Font by Mehr Nastaliq Web

ان کی چوکھٹ ہوتو کاسہ بھی پڑا سجتا ہے

سرور حسین نقشبندی

ان کی چوکھٹ ہوتو کاسہ بھی پڑا سجتا ہے

سرور حسین نقشبندی

MORE BYسرور حسین نقشبندی

    ان کی چوکھٹ ہو تو کاسہ بھی پڑا سجتا ہے

    در بڑا ہو تو سوالی بھی کھڑا سجتا ہے

    شہنشاہوں کے مقدر میں کہاں زیبائی

    جس قدر ان کی غلامی کا کڑا سجتا ہے

    یہ غلامی کہیں کم تر نہیں ہونے دیتی

    ان کا نوکر ہوں تو شاہوں میں کھڑا سجتا ہے

    سرورِ دیں کے مصلے پہ خدا جانتا ہے

    مرتضیٰ پیچھے ہو صدیق کھڑا سجتا ہے

    ایسے آقا ہوں تو لازم ہے غلامی پہ غرور

    ایسی نسبت ہو تو پھر بول بڑا سجتا ہے

    کان میں حر کے مقدر نے یہ سرگوشی کی

    تو نگینہ ہے انگوٹھی میں جڑا سجتا ہے

    مولیٰ شبر سے خدا جانے سخی مہدی تک

    گلشنِ زہرا کا ہر پھول بڑا سجتا ہے

    دیکھ کر بولے یہ صدیق و عمر طیبہ میں

    دوشۂ سرکار پہ شبیر پڑا سکتا ہے

    مجھ سے کہتے ہیں یہی اہل محبت سرورؔ

    نعت کا نغمہ ترے لب پہ بڑا سجتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے