Font by Mehr Nastaliq Web

ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی

سرور حسین نقشبندی

ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی

سرور حسین نقشبندی

MORE BYسرور حسین نقشبندی

    ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی

    ہے گنبد خضریٰ کی جھلک اور طرح کی

    ہر آن خیالوں میں ہے اس شہر کی ٹھنڈک

    چلتی ہے جہاں بادِ خنک اور طرح کی

    جھونکا کوئی گزرا ہے مدینے کی ہوا کا

    اطراف میں ہے آج مہک اور طرح کی

    جب لوٹ کے آتے ہیں مدینے کے مسافر

    ہوتی ہے جبینوں پہ چمک اور طرح کی

    اشکوں کی جو برسات ہوئی یادِ نبی میں

    پھیلی افقِ جاں پہ دھنک اور طرح کی

    یہ سرورِ عالم کی غلامی کی عطا ہے

    رہتی ہے جو لہجے میں کھنک اور طرح کی

    پلکوں پہ جو روشن ہے مدینے کے سفر میں

    یہ شمع ہے اے بامِ فلک اور طرح کی

    کرتا ہوں میں جب مدحِ محمد کا ارادہ

    ملتی ہے مدینے سے کمک اور طرح کی

    سرورؔ نے سنا ہے یہی شاہانِ سخن سے

    ہے نعت کے لکھنے میں جھجک اور طرح کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے