تابش زلفِ شب، حسنِ نورِ سحر، بزمِ افلاک کے آپ مسند نشیں!
تابش زلفِ شب، حسنِ نورِ سحر، بزمِ افلاک کے آپ مسند نشیں!
اے حسینِ ازل، آپ کی ذات پر، ہوں تصدق دو عالم کے سب مہ جبیں
آپ محبوبِ عالم، حبیبِ خدا، کوئی نبیوں میں ہمسر نہیں آپ کا
آپ کو حق نے بخشا ہے یہ مرتبہ، آپ کے در کے درباں ہیں روح الامیں
کشورِ فقر کے آپ سلطان ہیں، آپ کا کوئی دنیا میں ثانی نہیں
ہیں سلاطینِ عالم، گدا آپ کے، اے حریمِ محبت کے خلوت نشیں
سعیٔ پیہم نہ آخر گئی رائگاں، یوں ہی بڑھتا رہا آپ کا کارواں
آئی قدموں میں خود منزلِ جاوداں، افضل الانبیا سیدالمرسلیں
وہی ستارِؔ خستہ فقیر آپ کا، لذتِ عشق سے پہلے واقف نہ تھا
ہوگیا رفتہ رفتہ وہ درد آشنا، آپ نے جب سے بخشا شعور و یقیں
- کتاب : معطر معطر (Pg. 29)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.