جمال کبریا کا آئینہ ہیں
جمال کبریا کا آئینہ ہیں
محمد مہ جبیں ہیں مہ لقا ہیں
محمد مظہرِ شانِ خدا ہیں
محمد حق نگر ہیں حق نما ہیں
محمد کاشفِ ارض و سما ہیں
محمد رحمتِ ہر دوسرا ہیں
محمد ساجدِ رب العلیٰ ہیں
محمد عابدِ غارِ حرا ہیں
محمد دافعِ درد و بلا ہیں
محمد بیکسوں کا آسرا ہیں
محمد ہی بنائے لا الہٰ ہیں
محمد ہی تو فاراں کی صدا ہیں
محمد باعثِ تخلیقِ عالم!
محمد ابتدا ہیں انتہا ہیں
محمد مقصدِ دنیا و عقبیٰ
محمد ہی تو سب کا مدعا ہیں
محمد ہیں خطا بخش و خطا پوش
محمد شافعِ روزِ جزا ہیں
محمد کا یہ رتبہ اللہ اللہ
محمد صدرِ بزمِ انبیا ہیں
سکوں بخش نظر ہیں ان کے جلوے
محمد اک متاعِ بے بہا ہیں
ہے ان کی زلفِ عنبر شرحِ والیل
محمد معنیِ شمس الضحیٰ ہیں
فدا ان پر ہوں مہر و ماہ و انجم
محمد ہی تو مطلوبِ خدا ہیں
ہر اک منگتا کا بھر دیتے ہیں دامن
محمد صاحبِ جود و سخا ہیں
جسے دیکھوں ہے ان کا مست و شیدا
محمد منبعِٔ لطف و عطا ہیں
محمد حسرتوں کا میری حاصل
محمد ہی میرے مشکل کشا ہیں
ہے طالب ان کی خود ستارؔ جنت
کہ جو بھی عاشقِ خیرالوریٰ ہیں
- کتاب : معطر معطر (Pg. 47)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.