حق و باطل کا کسی دن فیصلہ ہونا ہی تھا
حق و باطل کا کسی دن فیصلہ ہونا ہی تھا
بزمِ عالم میں تمہیں جلوہ نما ہونا ہی تھا
تاجِ محبوبی تمہیں حق سے عطا ہونا ہی تھا
اس طرح آئینۂ شانِ خدا ہونا ہی تھا
کھنچ کے قدموں میں نہ آتی پھر خدائی کیوں حضور
جب درِ اقدس پہ اک محشر بپا ہونا ہی تھا
رحمتِ کونین تم میں خوار و خستہ بے وطن
تم کو مجھ پہ مائلِ لطف و عطا ہونا ہی تھا
تم ہو سلطانِ دو عالم میں فقیرِ رہ نشیں
بس تمہاری بھیک سے میرا بھلا ہونا ہی تھا
اب کوئی کرتا رہے تنقید سجدوں پر مرے
کعبۂ ایماں مرا وہ نقشِ پا ہونا ہی تھا
بے عمل بے علم پر بھی یہ نوازش یہ کرم
کیا مجھے یوں راقمِ مدح و ثنا ہونا ہی تھا
ہے وہ ستارِؔ حزیں دیوانۂ شاہِ امم
ذکر میرے عشق کا یوں جابجا ہونا ہی تھا
- کتاب : معطر معطر (Pg. 63)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.