حسیں ہو نازنیں ہو دل نشیں ہو
حسیں ہو نازنیں ہو دل نشیں ہو
سراپا نورِ رب العٰلمیں ہو
حریم ناز میں تم جلوہ گر ہو
تمہیں تو زینتِ عرشِ بریں ہو
تمہارے حسن پہ شیدا ہے خالق
کہ تم اک پیکرِ نورِ مبیں ہو
حبیبِ کبریا، سلطانِ عالم
تمہیں تو رحمت اللعٰلمیں ہو
جسے دیکھو وہ عاشق ہے تمہارا
ہر اک عاشق کے دل میں تم مکیں ہو
تمنا ہے نکل جائے مرا دم
تمہارے در پہ جب میری جبیں ہو
دلِ ستارؔ میں کوئی نہیں اب
بس اک تم ہی شہِ دنیا و دیں ہو
- کتاب : معطر معطر (Pg. 88)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.