یا شہ دیں جو مجھے ذوق رسا مل جائے
یا شہ دیں جو مجھے ذوق رسا مل جائے
نعت گوئی کو پھر اک موڑ نیا مل جائے
راہِ طیبہ میں جو پتھر بھی پڑا مل جائے
اس کی ٹھوکر میں بھی کیا جانیے کیا مل جائے
دیدۂ تر میں ہے وہ عشق محمد کی خمار
اشکِ غم پی لوں تو کوثر کا مزا مل جائے
بحرِ عشق شہ دیں سے نہ نکالو مجھ کو
ڈوب جانے دو کہ تہہ کا بھی پتا مل جائے
ظرف سے کم نہ زیادہ شہ دیں دیتے ہیں
ہو نہ یہ قید تو کیا جانیے کیا مل جائے
اک علاج اور ہے طیبہ کے شفا خانے میں
جب دوا کام نہ آئے تو دعا مل جائے
حشر کے دن شادؔ ان کے ثنا خوانوں میں
سرِ فہرست مرا نام لکھا مل جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.