آقا میرے قرار ہیں ہر بے_قرار کے
آقا میرے قرار ہیں ہر بے قرار کے
محبوب کل ہیں یار ہیں پروردگار کے
اللہ رے تاجدار مدینہ کا مرتبہ
منگتے ہیں تاجدار میرے تاجدار کے
دیتا خدا ہے اس میں ذرا شک نہیں مگر
دیتا ہے نعمتیں وہ محمد پہ وار کے
میرا قصور حل تیری مشکل نہ ہو ہر
تو دیکھ تو سہی ذرا ان کو پکار کے
چرچا جہاں میں کیوں نہ ہو یوسف کے حسن کا
حق نے دیا حبیب کا صدقہ اتار کے
بازار مصطفیٰ ہے یہاں نقد مانگ تو
و نا سمجھ یہاں نہیں سودے ادھار کے
رخشندہ آسماں پہ یہ شمس و قمر نہیں
وہ ذرے ضو فشاں ہیں تیری رہ گزار کے
صدقہ حسن حسین کا خیرات دیجیے
در پر کھڑے ہیں آپ کو منگتے پکار کے
میں خود حجاب ہوں بھلا کس منہ سے میں کہوں
جلوہ دکھاؤ میم کا گھونگھٹ اتار کے
ساجدؔ نزع میں نام ہے لب پر حضور کا
میں جا رہا ہوں عاقبت اپنی سنوار کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.