Font by Mehr Nastaliq Web

زندگی یادِ مدینہ میں گزاری ساری

شبیر ساجد مہروی

زندگی یادِ مدینہ میں گزاری ساری

شبیر ساجد مہروی

MORE BYشبیر ساجد مہروی

    زندگی یادِ مدینہ میں گزاری ساری

    عمر بھر کی ہے کمائی یہ ہماری ساری

    دیکھ کر خلدِ بریں دل نے کہا یہ فوراً

    کس نے تصویر مدینے کی اتاری ساری

    ایسا اللہ نے سلطان بنایا تجھ کو

    رب کی مخلوق ہوئی تیری بھکاری ساری

    آپ کے ایک اشارے پہ خدا بخشے گا

    بات بن جائے گی محشر میں ہماری ساری

    ہر نبی نورِ محمد سے ہوا ہے پیدا

    اسی دریا سے یہ نہریں ہوئیں جاری ساری

    تم بنا دو گے قیامت میں تو بن جائے گی

    ورنہ بگڑی ہوئی باتیں ہیں ہماری ساری

    خلق تو جرم کرے اور خدا فضل کرے

    حق تو یوں ہے کہ یہ خاطر ہے تمہاری ساری

    اچھے ان کے ہیں تو اے کیف بر ے کس کے ہیں

    اپنی امت شہہ بطحیٰ کو ہے پیاری ساری

    ہوں گے دنیا میں کئی اور سخی بھی ساجدؔ

    ان کے در تک ہے فقط دوڑ ہماری ساری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے