نہ خوف ہے نہ کوئی اضطراب مولیٰ علی
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف۔عراق)
نہ خوف ہے نہ کوئی اضطراب مولیٰ علی
تِرے کرم کا ہے سر پر سحاب مولیٰ علی
تھی خواب گاہِ نبی پُر خطر شبِ ہجرت
مگر سکون سے تھے محوِ خواب مولیٰ علی
ملے تو سرمہ بناؤں میں اپنی آنکھوں کا
تمہاری راہ گزر کی تراب مولیٰ علی
محاذِ جنگ میں آقا کے ساتھ ساتھ رہے
ہو تم رفیقِ رسالت مآب مولیٰ علی
یہ قولِ لافتی الا علی مسلم ہے
نہیں ہے کوئی تمہارا جواب مولیٰ علی
سوال ایسا نہیں جس نے لا جواب کیا
دیا ہے آپ نے سب کا جواب مولیٰ علی
چلے سواری سرِ حشر آپ کی جس دم
بناؤں شانوں کو اپنے رِکاب مولیٰ علی
شفیق فاتحِ خیبر خطاب کس کا ہے
ہے اس سوال کا سیدھا جواب مولیٰ علی
- کتاب : متاع نعت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.