Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

مدتوں تک دل وحشی کو بہت بہلایا

شاہ عبدالقادر بدایونی

مدتوں تک دل وحشی کو بہت بہلایا

شاہ عبدالقادر بدایونی

MORE BYشاہ عبدالقادر بدایونی

    مدتوں تک دل وحشی کو بہت بہلایا

    دھوکے بھی اس کو دیے اور بہت پھسلایا

    جب کہ دیکھا کہ نہیں جاتی ہے اس کی وحشت

    محو و مشتاق مدینہ اسے بے حد پایا

    دفعتاً گھر سے چلا بے سر و ساماں تب میں

    لطفِ حضرت مجھے پھرتا درِ حضرت لایا

    یا رسولِ دو جہاں تیرے کرم کے صدقے

    مجھ سے بے کس کو در پاک تلک پہنچایا

    درِ پرنور کے قابل تو نہ تھیں یہ آنکھیں

    چشمِ رحمت نے تری جلوہ مگر دکھلایا

    کیا ترے روضۂ انور کا کلس ہے جس نے

    ماہ و مہر و در و یاقوت کو ہے شرمایا

    تیری رفعت کو لکھے کیا یہ فقیرؔ خستہ

    شان میں تیری رفعنالک ذکرک آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے