مدتوں تک دل وحشی کو بہت بہلایا
مدتوں تک دل وحشی کو بہت بہلایا
دھوکے بھی اس کو دیے اور بہت پھسلایا
جب کہ دیکھا کہ نہیں جاتی ہے اس کی وحشت
محو و مشتاق مدینہ اسے بے حد پایا
دفعتاً گھر سے چلا بے سر و ساماں تب میں
لطفِ حضرت مجھے پھرتا درِ حضرت لایا
یا رسولِ دو جہاں تیرے کرم کے صدقے
مجھ سے بے کس کو در پاک تلک پہنچایا
درِ پرنور کے قابل تو نہ تھیں یہ آنکھیں
چشمِ رحمت نے تری جلوہ مگر دکھلایا
کیا ترے روضۂ انور کا کلس ہے جس نے
ماہ و مہر و در و یاقوت کو ہے شرمایا
تیری رفعت کو لکھے کیا یہ فقیرؔ خستہ
شان میں تیری رفعنالک ذکرک آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.